Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا

ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلاکے نہ ہم اپنے جامے میں اگر آج گریباں ہوتا میری زنجیر کی جھنکار نہ کوئی سنتا شور مجنوں نہ اگر سلسلہ جنباں ہوتا ہر سحر آئینہ رہتا ہے ترا منھ تکتا دل کی تقلید نہ کرتا تو نہ حیراں ہوتا وصل کے دن سے بدل کیونکے شب ہجراں ہو شاید اس طور میں ایام کا نقصاں ہوتا طور اپنے پہ جو ہم روتے تو پھر عالم میں دیکھتے تم کہ وہی نوح کا طوفاں ہوتا دل میں کیا کیا تھا ہمارے جو نہ ہوجاتی یاس یہ نگر کاہے کو اس طرح سے ویراں ہوتا خاک پا ہو کے ترے قد کا چمن میں رہتا سرو اتنا نہ اکڑتا اگر انساں ہوتا میر بھی دیر کے لوگوں ہی کی سی کہنے لگا کچھ خدا لگتی بھی کہتا جو مسلماں ہوتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR