Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا

ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا خدا جانے ہمیں اس بے خودی نے کس طرف پھینکا کہ مدت ہو گئی ہم کھینچتے ہیں انتظار اپنا ذلیل اس کی گلی میں ہوں تو ہوں آزردگی کیسی کہ رنجش اس جگہ ہووے جہاں ہو اعتبار اپنا اگرچہ خاک اڑائی دیدئہ تر نے بیاباں کی ولے نکلا نہ خاطر خواہ رونے سے غبار اپنا کہا بد وضع لوگوں نے جو دیکھا رات کو ملتے ہوا صحبت میں ان لڑکوں کی ضائع روزگار اپنا کریں جو ترک عزلت واسطے مشہور ہونے کے مگر شہروں میں کم ہے جیسے عنقا اشتہار اپنا دل بے تاب و بے طاقت سے کچھ چلتا نہیں ورنہ کھڑا بھی واں نہ جاکر ہوں اگر ہو اختیار اپنا عجب ہم بے بصیرت ہیں کہاں کھولا ہے بار آکر جہاں سے لوگ سب رخت سفر کرتے ہیں بار اپنا نہ ہو یوں میکدہ مسجد سا پر واں ہوش جاتے ہیں ہوا ہے دونوں جاگہ ایک دو باری گذار اپنا سراپا آرزو ہم لوگ ہیں کاہے کو رندوں میں رہے ہیں اب تلک جیتے ولے دل مار مار اپنا گیا وہ بوجھ سب ہلکے ہوئے ہم میر آخر کو مناسب تھا نہ جانا اس گلی میں بار بار اپنا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR