Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا

فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا تبسم سحر ہے جب پان سے لب سرخ ہوں اس کے دلوں میں کام کر جاتا ہے یاں جادو کے تیروں کا سرکنا اس کے درباں پاس سے ہے شب کو بھی مشکل سر زنجیر زیر سر رکھے ہے ہم اسیروں کا گئے بہتوں کے سر لڑکوں نے جو یہ باندھنوں باندھے شہید اک میں نہیں ان باندھنوں کے سرخ چیروں کا قفس کے چاک سے دیکھوں ہوں میں تو تنگ آتا ہوں چمن میں غنچہ ہو آنا گلوں پر ہم صفیروں کا ہمارے دیکھتے زیرنگیں تھا ملک سب جن کے کوئی اب نام بھی لیتا نہیں ان ملک گیروں کا دل پر کو تو ان پلکوں ہی نے سب چھان مارا تھا کیا میر ان نے خالی یوں ہی ترکش اپنے تیروں کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR