Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کل میں کہا وہ طور کا شعلہ کہاں گرا

کل میں کہا وہ طور کا شعلہ کہاں گرا دل نے جگر کی اور اشارت کی یاں گرا منظر خراب ہونے کو ہے چشم تر کا حیف پھر دید کی جگہ نہیں جو یہ مکاں گرا روح القدس کو سہل کیا یار نے شکار اک تیر میں وہ مرغ بلند آشیاں گرا پہنچایا مجھ کو عجز نے مقصود دل کے تیں یعنی کہ اس کے در ہی پہ میں ناتواں گرا شور اک مری نہاد سے تجھ بن اٹھا تھا رات جس سے کیا خیال کہ یہ آسماں گرا کیا کم تھا شعلہ شوق کا شعلے سے طور کے پتھر بھی واں کے جل گئے جاکر جہاں گرا ڈوبا خیال چاہ زنخداں میں اس کے میر دانستہ کیوں کنوئیں میں بھلا یہ جواں گرا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR