Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا

اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ کو کیا نہ تھی ظالم نگاہ خشم ادھر کی غضب کیا یکساں کیا نہیں ہے ہمیں خاک رہ سے آج ایسا ہی کچھ سلوک کیا ان نے جب کیا عمامہ لے کے شیخ کہیں میکدے سے جا بس مغبچوں نے حد سے زیادہ ادب کیا اس رخ سے دل اٹھایا تو زلفوں میں جا پھنسا القصہ اپنے روز کو ہم نے بھی شب کیا ظاہر ہوا نہ مجھ پہ کچھ اس ظلم کا سبب کیا جانوں خون ان نے مرا کس سبب کیا کچھ آگے آئے ہوتے جو منظور لطف تھا ہم جی سے اپنے جاچکے تم قصد تب کیا بچھڑے تمھارے اپنا عجب حال ہو گیا جس کی نگاہ پڑ گئی ان نے عجب کیا برسوں سے اپنے دل کی ہے دل میں کہ یار نے اک دن جدا نہ غیر سے ہم کو طلب کیا کی زندگی سو وہ کی موئے اب سو اس طرح جو کام میر جی نے کیا سو کڈھب کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR