Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا

طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا ہوا ہے کنج قفس ہی کی بے پری میں خوب کہ پر کے سال تلک لطف تھا رہائی کا یہیں ہیں دیر و حرم اب تو یہ حقیقت ہے دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہہ سائی کا نہ پوچھ مہندی لگانے کی خوبیاں اپنی جگر ہے خستہ ترے پنجۂ حنائی کا نہیں جہان میں کس طرف گفتگو دل سے یہ ایک قطرئہ خوں ہے طرف خدائی کا کسو پہاڑ میں جوں کوہکن سر اب ماریں خیال ہم کو بھی ہے بخت آزمائی کا بجا رہا نہ دل شیخ شور محشر سے جگر بھی چاہے ہے کچھ تھامنا اوائی کا رکھا ہے باز ہمیں در بدر کے پھرنے سے سروں پہ اپنے ہے احساں شکستہ پائی کا ملا کہیں تو دکھا دیں گے عشق کا جنگل بہت ہی خضر کو غرہ ہے رہنمائی کا نہ انس مجھ سے ہوا اس کو میں ہزار کہا جگر میں داغ ہے اس گل کی بیوفائی کا جہاں سے میر ہی کے ساتھ جانا تھا لیکن کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR