Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مکث طالع دیکھ وہ ایدھر کو چل کر رہ گیا

مکث طالع دیکھ وہ ایدھر کو چل کر رہ گیا رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا خواب میں کل پائوں اپنے دوست کے ملتا تھا میں آنکھ دشمن کھل گئی سو ہاتھ مل کر رہ گیا ہم تو تھے سرگرم پابوسی خدا نے خیر کی نیمچہ کل خوش غلاف اس کا اگل کر رہ گیا ہم بھی دنیا کی طلب میں سر کے بل ہوتے کھڑے بارے اپنا پائوں اس رہ میں بچل کر رہ گیا کیا کہوں بیتابی شب سے کہ ناچار اس بغیر دل مرے سینے میں دو دو ہاتھ اچھل کر رہ گیا کیا ہمیں کو یار کے تیغے نے کھاکر دم لیا ایسے بہتیروں کو یہ اژدر نگل کر رہ گیا دو قدم ساتھ اس جفا جو کے چلا جاتا ہے جی بوالہوس عیار تھا دیکھا نہ ٹل کر رہ گیا آنکھ کچھ اپنی ہی اس کے سامنے ہوتی نہیں جن نے وہ خونخوار سج دیکھی دہل کر رہ گیا ایک ڈھیری راکھ کی تھی صبح جاے میر پر برسوں سے جلتا تھا شاید رات جل کر رہ گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR