Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا

عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا مدت ہوئی الفت گئی برسوں ہوئے طاقت گئی دل مضطرب ایسا نہ تھا کیا جانیے اب کیا ہوا کل صبح سیر باغ میں دل اور میرا رک گیا بلبل نہ بولا منھ سے کچھ گل ٹک نہ مجھ سے وا ہوا وے دن گئے جو یاں کبھو اٹھتا تھا دل سے جوش سا اب لگ گئے رونے جہاں پل مارتے دریا ہوا کتنوں کے دل بے جاں ہوئے کتنے نہ جانا کیا ہوئے چلنے میں اس کے دو قدم ہنگامہ اک برپا ہوا مستی میں لغزش ہو گئی معذور رکھا چاہیے اے اہل مسجد اس طرف آیا ہوں میں بہکا ہوا جوں حسن ہے اک فتنہ گر توں عشق بھی ہے پردہ در وہ شہرئہ عالم ہوا میں خلق میں رسوا ہوا فرہاد و مجنوں ووں گئے ہم اور وامق یوں چلے اس عارضے سے چاہ کے وہ کون سا اچھا ہوا یا حرف خط ہے درمیاں یا گیسوئوں کا ہے بیاں کیا میر صاحب کے تئیں پھر ان دنوں سودا ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR