Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

وارد گلشن غزل خواں وہ جو دلبر یاں ہوا

وارد گلشن غزل خواں وہ جو دلبر یاں ہوا دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا طائران باغ کو تھا بیت بحثی کا دماغ پر ہر اک درد سخن سے میر کے نالاں ہوا دل کی آبادی کو پہنچا اپنے گویا چشم زخم دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر سب ویراں ہوا سبز بختی پر ہے اس کی طائر سدرہ کو رشک جو شکار اس تیغ کے سائے تلے بے جاں ہوا خاک پر بھی دوڑتی ہے چشم مہر و ماہ چرخ کس دنی الطبع کے گھر جا کے میں مہماں ہوا تھا جگر میں جب تلک قطرہ ہی تھا خوں کا سرشک اب جو آنکھوں سے تجاوز کر چلا طوفاں ہوا اس کے میرے بیچ میں آئینہ آیا تھا ولے صورت احوال ساری دیکھ کر حیراں ہوا دل نے خوں ہو عشق خوباں میں بھی کیا بدلے ہیں رنگ چہروں کو غازہ ہوا ہونٹوں کا رنگ پاں ہوا تم جو کل اس راہ نکلے برق سے ہنستے گئے ابر کو دیکھو کہ جب آیا ادھر گریاں ہوا جی سے جانا بن گیا اس بن ہمیں پل مارتے کام تو مشکل نظر آتا تھا پر آساں ہوا جب سے ناموس جنوں گردن بندھا ہے تب سے میر جیب جاں وابستۂ زنجیر تا داماں ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR