Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا

جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا رونا مرا سنوگے کہ طوفان کر رہا شب میکدے سے وارد مسجد ہوا تھا میں پر شکر ہے کہ صبح تئیں بے خبر رہا مل جس سے ایک بار نہ پھر تو ہوا دوچار رک رک کے وہ ستم زدہ ناچار مر رہا تسکین دل ہو تب کہ کبھو آگیا بھی ہو برسوں سے اس کا آنا یہی صبح پر رہا اس زلف و رخ کو بھولے مجھے مدتیں ہوئیں لیکن مرا نہ گریۂ شام و سحر رہا رہتے تو تھے مکاں پہ ولے آپ میں نہ تھے اس بن ہمیں ہمیشہ وطن میں سفر رہا اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ پوچھے ہے بار بار کچھ وجہ بھی کہ آپ کا منھ ہے اتر رہا اک دم میں یہ عجب کہ مرے سر پہ پھر گیا جو آب تیغ برسوں تری تا کمر رہا کاہے کو میں نے میر کو چھیڑا کہ ان نے آج یہ درد دل کہا کہ مجھے درد سر رہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR