Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ایک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا

ایک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا کیا جانیے کہ میر زمانے کو کیا ہوا دکھلاتے کیا ہو دست حنائی کا مجھ کو رنگ ہاتھوں سے میں تمھارے بہت ہوں جلا ہوا سوزش وہی تھی چھاتی میں مرنے تلک مرے اچھا ہوا نہ داغ جگر کا لگا ہوا سر ہی چڑھا رہے ہے ہر اک بادہ خوار کے ہے شیخ شہر یا کوئی ہے جن پڑھا ہوا ظاہر کو گو درست رکھا مر کے میں ولے دل کا لگائو کوئی رہا ہے چھپا ہوا ازخویش رفتہ میں ہی نہیں اس کی راہ میں آتا نہیں ہے پھر کے ادھر کا گیا ہوا یوں پھر اٹھا نہ جائے گا اے ابر دشت سے گر کوئی رونے بیٹھ گیا دل بھرا ہوا لے کر جواب خط کا نہ قاصد پھرا کبھو کیا جانے سرنوشت میں کیا ہے لکھا ہوا گو پیس مارے مہندی کے رنگوں فلک ولے چھوٹے نہ اس سے اس کا لگا یا بندھا ہوا اٹھتے تعب فراق کے جی سے کہاں تلک دل جو بجا رہا نہ ہمارا بجا ہوا دامن سے منھ چھپائے جنوں کب رہا چھپا سو جا سے سامنے ہے گریباں پھٹا ہوا دیکھا نہ ایک گل کو بھی چشمک زنی میں ہائے جب کچھ رہا نہ باغ میں تب میں رہا ہوا کیا جانیے ملاپ کسے کہتے ہیں یہ لوگ برسوں ہوئے کہ ہم سے تو وہ ہے لڑا ہوا بحر بلا سے کوئی نکلتا مرا جہاز بارے خداے عزَّوجل ناخدا ہوا اس بحر میں اک اور غزل تو بھی میر کہہ دریا تھا تو تو تیری روانی کو کیا ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR