Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا

اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا برقع اٹھاکے دیکھے ہے منھ سے کبھو ادھر بارے ہوا ہے ان دنوں رفع حجاب سا وہ دل کہ تیرے ہوتے رہے تھا بھرا بھرا اب اس کو دیکھیے تو ہے اک گھر خراب سا دس روز آگے دیکھا تھا جیسا سو اب نہیں دل رہ گیا ہے سینے میں جل کر کباب سا اس عمر میں یہ ہوش کہ کہنے کو نرم گرم بگڑا رہے ہے ساختہ مست شراب سا ہے یہ فریب شوق کہ جاتے ہیں خط چلے واں سے وگرنہ کب کا ہوا ہے جواب سا کیا سطر موج اشک روانی کے ساتھ ہے مشتاق گریہ ابر ہے چشم پر آب سا دوزخ ہوا ہے ہجر میں اس کے جہاں ہمیں سوز دروں سے جان پہ ہے اک عذاب سا مدت ہوئی کہ دل سے قرار و سکوں گئے رہتا ہے اب تو آٹھ پہر اضطراب سا مواج آب سا ہے ولیکن اڑے ہے خاک ہے میر بحربے تہ ہستی سراب سا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR