Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا

وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا بلا سے آنکھ جو پڑتی ہے اس کی دس جاگہ ہمارا حال تو مدنظر نہیں رکھتا رہے نہ کیونکے یہ دل باختہ سدا تنہا کہ کوئی آوے کہاں میں تو گھر نہیں رکھتا جنھوں کے دم میں ہے تاثیر اور وے ہیں لوگ ہمارا نالۂ جانکاہ اثر نہیں رکھتا کہیں ہیں اب کے بہت رنگ اڑ چلا گل کا ہزار حیف کہ میں بال و پر نہیں رکھتا تو کوئی زور ہی نسخہ ہے اے مفرح دل کہ طبع عشق میں ہرگز ضرر نہیں رکھتا خدا کی اور سے ہے سب یہ اعتبار ارنہ جو خوب دیکھو تو میں کچھ ہنر نہیں رکھتا غلط ہے دعوی عشق اس فضول کا بے ریب جو کوئی خشک لب اور چشم تر نہیں رکھتا جدا جدا پھرے ہے میر سب سے کس خاطر خیال ملنے کا اس کے اگر نہیں رکھتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR