Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

نظر میں طور رکھ اس کم نما کا

نظر میں طور رکھ اس کم نما کا بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا گلوں کے پیرہن ہیں چاک سارے کھلا تھا کیا کہیں بند اس قبا کا پرستش اب اسی بت کی ہے ہر سو رہا ہو گا کوئی بندہ خدا کا بلا ہیں قادرانداز اس کی آنکھیں کیا یکہ جنازہ جس کو تاکا بجا ہے عمر سے اب ایک حسرت گیا وہ شور سر کا زور پا کا مداوا خاطروں سے تھا وگرنہ بدایت مرتبہ تھا انتہا کا لگا تھا روگ جب سے یہ تبھی سے اثر معلوم تھا ہم کو دوا کا مروت چشم رکھنا سادگی ہے نہیں شیوہ یہ اپنے آشنا کا کہیں اس زلف سے کیا لگ چلی ہے پڑے ہے پائوں بے ڈھب کچھ صبا کا نہ جا تو دور صوفی خانقہ سے ہمیں تو پاس ہے ابر و ہوا کا نہ جانوں میر کیوں ایسا ہے چپکا نمونہ ہے یہ آشوب و بلا کا کرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کو نہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR