Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا

رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا کچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا غافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہے گر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیا بھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا مہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرے میں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا اب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلق دریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا ہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیک وہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا مجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھو دروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منھ بگڑ گیا کیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا عالم کی سیر میر کی صحبت میں ہو گئی طالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR