Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا

ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا رہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا کب اس کا نام لیے غش نہ آگیا مجھ کو دل ستم زدہ کس وقت اس میں جا نہ رہا ملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھا پھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا موئے تو ہم پہ دل پُر کو خوب خالی کر ہزار شکر کسو سے ہمیں گلہ نہ رہا ادھر کھلی مری چھاتی ادھر نمک چھڑکا جراحت اس کو دکھانے کا اب مزہ نہ رہا ہوا ہوں تنگ بہت کوئی دن میں سن لیجو کہ جی سے ہاتھ اٹھاکر وہ اٹھ گیا نہ رہا ستم کا اس کے بہت میں نزار ہوں ممنون جگر تمام ہوا خون و دل بجا نہ رہا اگرچہ رہ گئے تھے استخوان و پوست ولے لگائی ایسی کہ تسمہ بھی پھر لگا نہ رہا حمیت اس کے تئیں کہتے ہیں جو میر میں تھی گیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ نہ رہا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR