Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم کیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی دل ریزئہ خزف کی طرح میں اٹھا دیا تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی جب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں اب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا وہ آگ ہورہا ہے خدا جانے غیر نے میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش سو تونے مار مار کے آکر بچھا دیا اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی کڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا کی چشم تونے باز کہ کھولا درستم کس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا کیا کیا زیان میر نے کھینچے ہیں عشق میں دل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR