Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم تر سا

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم تر سا رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا شاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نے نامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا وحشی مزاج ازبس مانوس بادیہ ہیں ان کے جنوں میں جنگل اپنا ہوا ہے گھر سا جس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہ اس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا سب پیچ کی یہ باتیں ہیں شاعروں کی ورنہ باریک اور نازک مو کب ہے اس کمر سا طرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کے کیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا تم واقف طریق بے طاقتی نہیں ہو یاں راہ دو قدم ہے اب دور کا سفر سا کچھ بھی معاش ہے یہ کی ان نے ایک چشمک جب مدتوں ہمارا جی دیکھنے کو ترسا ٹک ترک عشق کریے لاغر بہت ہوئے ہم آدھا نہیں رہا ہے اب جسم رنج فرسا واعظ کو یہ جلن ہے شاید کہ فربہی سے رہتا ہے حوض ہی میں اکثر پڑا مگر سا انداز سے ہے پیدا سب کچھ خبر ہے اس کو گو میر بے سر و پا ظاہر ہے بے خبر سا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR