Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گردباد برسوں گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق کہتے ہیں میرے منھ پر اب شیخ و شاب کیا کیا پھر پھر گیا ہے آکر منھ تک جگر ہمارے گذرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منھ پر تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میر جی کو کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR