Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا نکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر ورنہ بنائو ہووے نہ دن اور رات کا در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگر صورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا ہیں مستحیل خاک سے اجزاے نوخطاں کیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا مستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگ عیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحار لکھنا نہ تو بھی ہوسکے اس کی صفات کا اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ ہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا ہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہ مصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا ہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگو مذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلوٰت کا کیا میر تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہے ختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR