Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

نکلے ہے جی کا رستہ آواز کی رکن سے

نکلے ہے جی کا رستہ آواز کی رکن سے آزردہ ہو نہ بلبل جاتے ہیں ہم چمن سے جی غش کرے ہے اب تو رفتار دیکھ اس کی دیکھیں نبھے ہے اپنی کس طور اس چلن سے گر اس کی اور کوئی گرمی سے دیکھتا ہے اک آگ لگ اٹھے ہے اپنے تو تن بدن سے رنگیں خرامی کیا کیا لیتی ہے کھینچ دل کو کیا نقش پا کو اس کے نسبت گل و سمن سے دن رات گاہ و بے گہ جب دیکھو ہیں سفر میں ہم کس گھڑی وداعی یارب ہوئے وطن سے دل سوختہ ہوں مجھ کو تکلیف حرف مت کر اک آگ کی لپٹ سی نکلے ہے ہر سخن سے دل کا اسیر ہونا جی میر جانتا ہے کیا پیچ پاچ دیکھے اس زلف پرشکن سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR