Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا چال نکالی ہے کہ جو دیکھے سو مر جائے

کیا چال نکالی ہے کہ جو دیکھے سو مر جائے بھیچک کوئی رہ جائے کوئی جی سے گذر جائے تاچند یہ خمیازہ کشی تنگ ہوں یارب آغوش مری ایک شب اس شوخ سے بھر جائے بے طاقتی دل سے مری جان ہے لب پر تم ٹھہرو کوئی دم تو مرا جی بھی ٹھہر جائے پڑتے نگہ یار مرا حال ہے ویسا بجلی کے تڑپنے سے کوئی جیسے کہ ڈر جائے اس آئینہ رو شوخ مفتن سے کہیں کیا عاشق کو برا کہہ کے منھ ہی منھ میں مکر جائے ناکس کی تلافی ستم کون کرے ہے ڈرتا ہوں کہ وہ اور بھی آزردہ نہ کر جائے جاتا ہے جدھر منزل مقصود نہیں وہ آوارہ جو ہو عشق کا بے چارہ کدھر جائے رونے میں مرے سر نہ چڑھو صبر کرو ٹک یہ سیل جو اک زور سے آتا ہے اتر جائے کیا ذکر مرا میں تو کہیں اس سے ملوں ہوں ان خانہ خرابوں کی کہو جن کے وہ گھر جائے اس زلف کا ہر بال رگ جان ہے اپنی یاں جی ہی بکھرتا ہے صبا وہ جو بکھر جائے گردش میں جو وے آنکھ نشے کی بھری دیکھیں ہشیار سروں کے تئیں سدھ اپنی بسر جائے آنکھیں ہی لگی جاتی ہیں اس جاذبہ کو میر آتی ہے بہت دیر جو اس منھ پہ نظر جائے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR