Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سنا جاتا ہے اے گھتیے ترے مجلس نشینوں سے

سنا جاتا ہے اے گھتیے ترے مجلس نشینوں سے کہ تو دارو پیے ہے رات کو مل کر کمینوں سے گئی گرم اختلاطی کب کی ان سحر آفرینوں سے لگے رہتے ہیں داغ ہجر ہی اب اپنے سینوں سے گلے لگ کر نہ یک شب کاش وہ مہ سوگیا ہوتا مری چھاتی جلا کرتی ہے اب کتنے مہینوں سے خدا جانے ہے اپنا تو جگر کانپا ہی کرتا ہے چڑھی تیوری سے محبوبوں کی اور ابرو کی چینوں سے بہت کوتاہ دامن خرقے شیخوں کے پھٹے پائے کہیں نکلے تھے گورے ہاتھ اس کے آستینوں سے رہے محو خیال اس کے تو یک دقت سے ہاتھ آئے نزاکت اس کمر کی پوچھی ہم باریک بینوں سے برنگ برگ گل ساتھ ایک شادابی کے ہوتا ہے عرق چیں بھیگتا ہے دلبروں کے جب پسینوں سے بہت میں لخت دل رویا مجھے اک خلق نے جانا ہوا ہے پہن میرا نام ان رنگیں نگینوں سے غزل ہی کی ردیف و قافیہ کا رفتہ رہنا ہے نکلنا میر اب مشکل ہے میرا ان زمینوں سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR