Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کل جوش غم میں آنسو ٹپکے نہ چشم تر سے

کل جوش غم میں آنسو ٹپکے نہ چشم تر سے افسوس ہے کہ آکر یوں مینھ ٹک نہ برسے کیا ہے نمود مردم جو کہیے دیکھیو تم مژگاں بہم زدن میں جاتی رہی نظر سے ہم سا شکستہ خاطر اس بستی میں نہ ہو گا برسے ہے عشق اپنے دیوار اور در سے معلوم اگلی سی تو جرأت الم کشی میں کیا کام نکلے گا اب ٹکڑے ہوئے جگر سے آئینہ دار اسی کے پاتے ہیں شش جہت کو دیکھیں تو منھ دکھاوے وہ کام جاں کدھر سے مت رنج کھینچ مل کر ہشیار مردماں سے اس کی خبر ملے گی اک آدھ بے خبر سے جب گوش زد ہو اس کے تب بے دماغ ہو وہ بس ہوچکی توقع اب نالۂ سحر سے اے رشک مہ کبھو تو آ چاند سا نکل کر منھ دیکھنے کو تیرا تا چند کوئی ترسے چاہت بری بلا ہے کل میر نالہ کش بھی ہمراہ نے سواراں دوڑے پھرے نفر سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR