Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بہار آئی نکالو مت مجھے اب کے گلستاں سے

بہار آئی نکالو مت مجھے اب کے گلستاں سے مرا دامن بنے تو باندھ دو گل کے گریباں سے نہ ٹک واشد ہوئی دل کو نہ جی کی لاگ کچھ پائی رہے دس دن جو اپنی عمر کے یاں ہم سو مہماں سے غم ہجراں نے شاید آگ دی اس ماہ بن دل کو شرارے تب تو نکلے ہیں ہماری چشم گریاں سے سبب آشفتہ طبعی کا ہماری رہتے ہیں دونوں نہ دل جمعی ہے اس کے خط سے نے زلف پریشاں سے ادھر زنجیر کے غل ہیں ادھر ہنگامے لڑکوں کے جنوں اس دشت میں ہم نے کیا ہے کیسے ساماں سے محبت میں کسو کی رنج و محنت سے گئے دونوں رہی شرمندگی ہی عمر بھر مجھ کو دل و جاں سے خدا جانے کہ دل کس خانہ آباداں کو دے بیٹھے کھڑے تھے میر صاحب گھر کے دروازے پہ حیراں سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR