Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہوں خاک پا جو اس کی ہر کوئی سر چڑھاوے

ہوں خاک پا جو اس کی ہر کوئی سر چڑھاوے منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے ان دو ہی صورتوں میں شکل اب نباہ کی ہے یا صبر ہم کو آوے یا رحم اس کو آوے اس مہ بغیر عالم آنکھوں میں سب سیہ ہے دیکھیں تو عشق کیا کیا ہم کو سمیں دکھاوے کچھ زخم کھل چلے ہیں کچھ داغ کھل رہے ہیں اب کے بہار دیکھیں کیا کیا شگوفے لاوے جوں لیلیٰ اور مجنوں تا نقش کچھ رہے یاں اس کی مری بھی صورت یک جا کوئی بناوے یہ طرح دار لڑکے دیں بیٹھنے تب اس کو جب جی سے اپنے کوئی ہر طرح دل اٹھاوے ہم جس زمیں پہ آئے واں آسماں یہی تھا یارب جو کوئی جاوے تو کس طرف کو جاوے شب سنتے حال میرا لیتا ہے موند آنکھیں مچلے سے میں کہوں کیا سوتا ہو تو جگاوے طاعت کا محو تب ہے جب ڈھب نہیں بتوں سے چھوڑے نماز واجب گر میر وقت پاوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR