Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کہیں آگ آہ سوزندہ نہ چھاتی میں لگا دیوے

کہیں آگ آہ سوزندہ نہ چھاتی میں لگا دیوے خبر ہوتے ہی ہوتے دل جگر دونوں جلا دیوے بہت روئے ہمارے دیدئہ تر اب نہیں کھلتے متاع آب دیدہ ہے کوئی اس کو ہوا دیوے تمھارے پائوں گھر جانے کو عاشق کے نہیں اٹھتے تم آئو تو تمھیں آنکھوں پہ سر پر اپنے جا دیوے دلیل گم رہی ہے خضر جو ملتا ہے جنگل میں پھرے ہے آپھی بھولا کیا ہمیں رستہ بتا دیوے گئے ہی جی کے فیصل ہو نیاز و ناز کا جھگڑا کہیں وہ تیغ کھینچے بھی کہ بندہ سر جھکا دیوے لڑائی ہی رہی روزوں میں باہم بے دماغی سے گلے سے اس کے ہم کو عید اب شاید ملا دیوے ہوا میں میر جو اس بت سے سائل بوسۂ لب کا لگا کہنے ظرافت سے کہ شہ صاحب خدا دیوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR