Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سوز دروں نے آخر جی ہی کھپا دیا ہے

سوز دروں نے آخر جی ہی کھپا دیا ہے ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے اب نیند کیونکے آوے گرمی نے عاشقی کی دل ہے جدھر وہ پہلو سارا جلا دیا ہے حرف غلط تھے کیا ہم صفحے پہ زندگی کے جو صاف یوں قضا نے ہم کو مٹا دیا ہے کڑھتے ہمیشہ رہنا ہم کو بغیر اس کے کیا روگ دوستی نے جی کو لگا دیا ہے اچرج ہے یہ کہ ہے وہ میرا چراغ تربت کتنوں کا ورنہ خوں کر ان نے دبا دیا ہے آنکھوں کی کچھ حیا تھی سو موند لیں ادھر سے پردہ جو رہ گیا تھا وہ بھی اٹھا دیا ہے ہم دل زدہ رہے ہیں انواع تلخ سنتے ان شکریں لبوں نے ہم کو رجھا دیا ہے جب طول میں دیا ہے نامے کو شوق کے تب جوں کاغذ ہوائی ان نے اڑا دیا ہے مرنے ہی کا مہیا اپنے رہا کیا ہوں واں تیغ اٹھائی ان نے یاں سر جھکا دیا ہے کیا بے نمک ہوا ہے پروانہ راکھ جل کر رہ رہ کے ہم جلے تو ہم کو مزہ دیا ہے تھے جوں چراغ مفلس مضطر نہ ترک تھا جب بارے فقیری نے تو آرام سا دیا ہے شہروں کے تنگ کوچے کاہے کو گوں ہیں اپنی ہم وحشیوں کے قابل رہنے کے بادیہ ہے نادردمند بلبل نالاں ہے بے تہی سے دل ہم کو بھی خدا نے دردآشنا دیا ہے کیا نامہ بر ہمارا ہے صاف بے مروت خط نانوشتہ ہم کو اودھر سے لا دیا ہے عالم شکار ہے وہ اس سن میں میر اس کو ڈھب جان مارنے کا کن نے بتا دیا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR