Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سب کھا گئے جگر تری پلکوں کے کاو کاو

سب کھا گئے جگر تری پلکوں کے کاو کاو ہم سینہ خستہ لوگوں سے بس آنکھ مت لگائو آنکھوں کا جھڑ برسنے سے ہتھیا کے کم نہیں پل مارتے ہے پیش نظر ہاتھی کا ڈبائو کشتی چشم ڈوبی رہی بحر اشک میں آئی نہ پار ہوتی نظر عاشقوں کی نائو سینے کے اپنے زخم سے خاطر ہو جمع کیا دل ہی کی اور پاتے ہیں سب لوہو کا بہائو بیتابی دل افعی خامہ نے کیا لکھی کاغذ کو شکل مار سراسر ہے پیچ تائو ہرچند جانیں جاتی ہیں پر تیغ جور سے تم کو ہمارے سر کی سوں تم ہاتھ مت اٹھائو سر نیچے ہو تو پاؤں ترا دابیں ہم کبھی دبتا وہی ہے جس کے تئیں کچھ بھی ہو دبائو چاک قفس سے آنکھیں لگیں کب تلک رہیں اک برگ گل نسیم ہماری طرف بھی لائو غیرت کا عشق کی ہے طریقہ ہی کچھ جدا اس کی گلی کی خضرؑ کو بھی راہ مت بتائو ظاہر ہیں دیکھنے سے گنہ کیونکہ تیرے سب چھپتے ہیں میر کوئی دلوں کے کہیں لگائو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR