Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو

کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو پایا گیا وہ گوہر نایاب سہل کب نکلا ہے اس کو ڈھونڈنے تو پہلے جان کھو کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو سنتے نہیں کہے جو نہ کہیے تو دم رکے کچھ پوچھیے نہ قصہ ہمارا ہے گومگو مشعر ہے بے دماغی پہ مطلق نہ بولنا ہم دیں تمھیں دعا ہمیں تم گالیاں تو دو کرنا جگر ضرور ہے دل دادگاں کو بھی وہ بولتا نہیں تو تم آپھی سے چھیڑ لو اے غافلان دہر یہ کچھ راہ کی ہے بات چلنے کو قافلے ہیں یہاں تم رہے ہوسو گردش میں جو کوئی ہو رکھے اس سے کیا امید دن رات آپھی چرخ میں ہے آسمان تو جب دیکھتے ہیں پائوں ہی دابو ہو اس کے میر کیوں ہوتے ہو ذلیل تم اتنا تو مت دبو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR