Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو

بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو کہتے ہیں آوے گا ایدھر وہ قیامت رفتار چلتے پھرتے رہیں گے تب تئیں ہم کاہے کو یہ بھی اک ڈھب ہے نہ ایذا نہ کسو کو راحت رحم موقوف کیا ہے تو ستم کاہے کو نرگس ان آنکھوں کو جو لکھ گئے نابینا تھے اپنے نزدیک ہیں وے دست قلم کاہے کو اس کی تلوار سے گر جان کو رکھتے نہ عزیز مرتے اس خواری سے تو صید حرم کاہے کو چشم پوشی کا مری جان تمھیں لپکا ہے کھاتے ہو دیدہ درائی سے قسم کاہے کو میری آنکھوں پہ رکھو پائوں جو آئو لیکن رکھتے ہو ایسی جگہ تم تو قدم کاہے کو دل کو کہتے ہیں کہ اس گنج رواں کا گھر ہے اس خرابے میں کرے ہے وہ کرم کاہے کو شور نے نام خدا ان کے بلا سر کھینچا میر سا ہے کوئی عالم میں علم کاہے کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR