Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دوست رکھتا ہوں بہت اپنے دل بیمار کو

دوست رکھتا ہوں بہت اپنے دل بیمار کو خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو جز عزیز از جاں نہیں یوسف کو لکھتا یہ کبھو کیا غرور میرزائی ہے ہمارے یار کو جب کبھو ایدھر سے نکلے ہے تو اک حسرت کے ساتھ دیکھے ہے خورشید اس کے سایۂ دیوار کو بوجھ تو اچھا تھا پر آخر گرو رکھتے ہوئے وجہ جام مے نہ پایا خرقہ و دستار کو خوں چکاں شکوے ہیں دل سے تا زباں میری ولے سی لیا ہے تو کہے میں نے لب اظہار کو تصفیے سے دل میں میرے منھ نظر آتا ہے لیک کیا کروں آئینہ ساں میں حسرت دیدار کو عاشقی وہ روگ ہے جس میں کہ ہوجاتی ہے یاس اچھے ہوتے کم سنا ہے میر اس آزار کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR