Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو

گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو خوب نہیں اے شمع کی غیرت ساتھ رہیں بیگانے دو کب فرمان پہ تیرے ہوئے یہ بازو کے پروانے دو ایسے بہانہ طلب سے ہم بھی روز گذاری کرتے ہیں کب وعدے کی شب آئی جو ان نے کیے نہ بہانے دو تیرستم اس دشمن جاں کا تا دو کماں پر ہو نہ کہیں دل سے اور جگر سے اپنے ہم نے رکھیں ہیں نشانے دو کس کو دماغ رہا ہے یاں اب ضدیں اس کی اٹھانے کا چار پہر جب منت کریے تب وہ باتیں مانے دو غم کھاویں یا غصہ کھاویں یوں اوقات گذرتی ہے قسمت میں کیا خستہ دلوں کی یہ ہی لکھے تھے کھانے دو خال سیاہ و خط سیاہ ایمان و دل کے رہزن تھے اک مدت میں ہم نے بارے چوٹٹے یہ پہچانے دو عشق کی صنعت مت پوچھو جوں نیچے بھوئوں کے چشم بتاں دیکھیں جہاں محرابیں ان نے طرح کیے میخانے دو رونے سے تو پھوٹیں آنکھیں دل کو غموں نے خراب کیا دیکھنے قابل اس کے ہوئے ہیں اب تو یہ ویرانے دو دشت و کوہ میں میر پھرو تم لیکن ایک ادب کے ساتھ کوہکن و مجنوں بھی تھے اس ناحیے میں دیوانے دو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR