Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جوش غم اٹھنے سے اک آندھی چلی آتی ہے میاں

جوش غم اٹھنے سے اک آندھی چلی آتی ہے میاں خاک سی منھ پر مرے اس وقت اڑ جاتی ہے میاں پڑ گئے سوراخ دل کے غم میں سینے کوٹتے سل تو پتھر کی نہیں آخر مری چھاتی ہے میاں میں حیا والا ہوا رسواے عالم عشق میں آنکھ میری اس سبب لوگوں سے شرماتی ہے میاں رشک اس کے چہرئہ پرنور کا ہے جاں گداز شمع مجلس میں کھڑی اپنے تئیں کھاتی ہے میاں آگ غیرت سے قفس کو دوں ہوں چاروں اور سے ایک دو گلبرگ جب بادسحر لاتی ہے میاں ہے حزیں نالیدن اس کا نغمۂ طنبور سا خوش نوا مرغ گلستاں رند باغاتی ہے میاں کیا کہوں منھ تک جگر آتا ہے جب رکتا ہے دل جان میری تن میں کیسی کیسی گھبراتی ہے میاں اس کے ابروے کشیدہ خم ہی رہتے ہیں سدا یہ کجی اس تیغ کی تو جوہر ذاتی ہے میاں گات اس اوباش کی لیں کیونکے بر میں میر ہم ایک جھرمٹ شال کا اک شال کی گاتی ہے میاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR