Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تیغ کی نوبت کب پہنچے ہے اپنے جی کی غارت میں

تیغ کی نوبت کب پہنچے ہے اپنے جی کی غارت میں عاشق زار کو مار رکھے ہے ایک ابرو کی اشارت میں گذرے گر دل میں ہوکر تو ایک نگاہ ضروری ہے کچھ کچھ تیرے غم نے لکھا ہے آکر واں کی عمارت میں سوکھ کے میں تو عشق کے غم میں خس کی مثال حقیر ہوا وہ تقصیر نہیں کرتا ہے اب تک میری حقارت میں ایک بگولا ساتھ مجھے بھی تربت قیس پہ لے آیا کتنے غزال نظر واں آئے تھے مشغول زیارت میں دل کو آگ اک دم میں دے دی اشک ہوئے چنگاری سے کیا ہی شریر ہے شوخی برق ملائی ان نے شرارت میں شیخ جو تھا دیدار بتاں کا منکر ایسا تھا معذور دل کو بصیرت تھی نہ اس کے بے نوری تھی بصارت میں خط و کتابت ایک طرف ہے دفتر لکھ لکھ بھیجے میر کہیے کچھ جو صریر قلم کی کوتاہی ہو سفارت میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR