Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

درویشوں سے تو ان نے ضدیں نکالیاں ہیں

درویشوں سے تو ان نے ضدیں نکالیاں ہیں ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں جبہے سے سینہ تک ہیں کیا کیا خراش ناخن گویا کہ ہم نے منھ پر تلواریں کھالیاں ہیں جب لگ گئے جھمکنے رخسار یار دونوں تب مہر و مہ نے اپنی آنکھیں چھپالیاں ہیں صبح چمن کا جلوہ ہندی بتوں میں دیکھا صندل بھری جبیں ہیں ہونٹوں کی لالیاں ہیں درد و الم ہی میں سب جاتے ہیں روز و شب یاں دن اشک ریزیاں ہیں شب زار نالیاں ہیں حیزوں نے ریختے کو ووں ریختی بنایا جوں ان دنوں میں بالے لڑکوں کی بالیاں ہیں اجماع بوالہوس کو رکھ رکھ لیا ہے آگے مت جان ایسی بھیڑیں جی دینے والیاں ہیں ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں وہ دزد دل نہیں تو کیوں دیکھتے ہی مجھ کو پلکیں جھکالیاں ہیں آنکھیں چرا لیاں ہیں اس آفتاب بن یاں اندھیر ہورہا ہے دن بھی سیاہ اپنے جوں راتیں کالیاں ہیں چلتے ہیں یہ تو ٹھوکر لگتی ہے میر دل کو چالیں ہی دلبروں کی سب سے نرالیاں ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR