Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جی کے تئیں چھپاتے نہیں یوں تو غم سے ہم

جی کے تئیں چھپاتے نہیں یوں تو غم سے ہم پر تنگ آگئے ہیں تمھارے ستم سے ہم اپنے خیال ہی میں گذرتی ہے اپنی عمر پر کچھ نہ پوچھو سمجھے نہیں جاتے ہم سے ہم زانو پہ سر ہے قامت خم گشتہ کے سبب پیری میں اپنی آن لگے ہیں قدم سے ہم جوں چکمہ میرحاج کا ہے خوار جانماز بت خانے میں جو آئے ہیں چل کر حرم سے ہم روتے بھی ان نے دیکھ کے ہم کو کیا نہ رحم اک چشم داشت رکھتے تھے مژگان نم سے ہم بدعہدیاں ہی کرتے گئے اس کو سال و ماہ اب کب تسلی ہوتے ہیں قول و قسم سے ہم زنار سا بندھا ہے گلے اپنے اب تو کفر بدنام ہیں جہان میں عشق صنم سے ہم لوگوں کے وصف کرنے سے بالیدگی ہوئی جوں شیشہ پھیل پھوٹ پڑے ان کے دم سے ہم طرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر کیا کیا کہا کریں ہیں زبان قلم سے ہم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR