Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دعویٰ ہے یوں ہی اس کا ترے حسن گوش پر

دعویٰ ہے یوں ہی اس کا ترے حسن گوش پر یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر شاید کسو میں اس میں بہت ہو گیا ہے بعد تم بھی تو گوش رکھو جرس کے خروش پر جیب و کنار سے تو بڑھا پانی دیکھیے چشمہ ہماری چشم کا رہتا ہے جوش پر اک شور ہے جو عالم کون و فساد میں ہنگامہ ہے اسی کے یہ لعل خموش پر ہے بار دوش جس کے لیے زندگی سو وہ رکھ ہاتھ راہ ٹک نہ چلا میرے دوش پر جو ہے سو مست بادئہ وہم و خیال ہے کس کو ہے یاں نگاہ کسو دردنوش پر مرغ چمن نے کیا حق صحبت ادا کیا لالا کے گل بکھیرے مرے قبرپوش پر جب تک بہار رہتی ہے رہتا ہے مست تو عاشق ہیں میر ہم تو تری عقل و ہوش پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR