Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پڑتی ہے آنکھ ہر دم جا کر صفاے تن پر

پڑتی ہے آنکھ ہر دم جا کر صفاے تن پر سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر نام خدا نکالے کیا پائوں رفتہ رفتہ تلواریں چلتیاں ہیں اس کے تو اب چلن پر تو بھی تو ایک دن چل گلشن میں ساتھ میرے کرتی ہے کیا تبختر بلبل گل چمن پر دل جو بجا نہیں ہے وحشی سا میں پھروں ہوں تم جائیو نہ ہرگز میرے دوانے پن پر درکار عاشقوں کو کیا ہے جو اب نامہ یک نام یار بس ہے لکھنا مرے کفن پر تب ہی بھلے تھے جب تک حرف آشنا نہ تھے تم لینے لگے لڑائی اب تو سخن سخن پر گرد رخ اس کے پیدا خط کا غبار یوں ہے گرد اک تنک سی بیٹھے جس رنگ یاسمن پر کس طرح میرجی کا ہم توبہ کرنا مانیں کل تک بھی داغ مے تھے سب ان کے پیرہن پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR