Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اے مرغ چمن صبح ہوئی زمزمہ سر کر

اے مرغ چمن صبح ہوئی زمزمہ سر کر دم کھینچ تہ دل سے کوئی ٹکڑے جگر کر وہ آئینہ رو باغ کے پھولوں میں جو دیکھا ہم رہ گئے حیران اسی منھ پہ نظر کر ہے بے خبری مجھ کو ترے دیکھے سے ساقی ہر لحظہ مری جان مجھے میری خبر کر جس جاے سراپا میں نظر جاتی ہے اس کے آتا ہے مرے جی میں یہیں عمر بسر کر فرہاد سے پتھر پہ ہوئیں صنعتیں کیا کیا دل جا کے جگرکاوی میں کچھ تو بھی ہنر کر پڑتے نگہ اس شوخ کی ہوتا ہے وہ احوال رہ جاوے ہے جیسے کہ کوئی بجلی سے ڈر کر معشوق کا کیا وصل ورے ایسا دھرا ہے تاشمع پتنگا بھی جو پہنچے ہے تو مر کر یک شب طرف اس چہرئہ تاباں سے ہوا تھا پھر چاند نظر ہی نہ چڑھا جی سے اتر کر کسب اور کیا ہوتا عوض ریختے کے کاش پچھتائے بہت میر ہم اس کام کو کر کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR