Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گرمی سے گفتگو کی کرلے قیاس جاں پر

گرمی سے گفتگو کی کرلے قیاس جاں پر شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر دیکھ اس کے خط کی خوبی لگ جاتی ہے چپ ایسی گویا کہ مہر کی ہے ان نے مرے دہاں پر ہوں خاک مجھ کو ان سے نسبت حساب کیا ہے میں گنتی میں نہیں ہوں وے ہفتم آسماں پر گھر باغ میں بنایا پر ہم نے یہ نہ جانا بجلی سے بھی پڑے گا پھول آ کے آشیاں پر روتے ہیں دوست اکثر سن سرگذشت عاشق تو بھی تو گوش وا کر ٹک میری داستاں پر کیا بات میں تب اس کی جاوے کسو سے بولا ہونے لگے ہوں خوں جب ہونٹوں کے رنگ پاں پر تڑپے ہے دل گھڑی بھر تو پہروں غش رہے ہے کیا جانوں آفت آئی کیا طاقت و تواں پر سودا بنے جو اس سے تو میر منفعت ہے اپنی نظر نہیں ہے پھر جان کے زیاں پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR