Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

حال کہنے کی کسے تاب اس آزار کے بیچ

حال کہنے کی کسے تاب اس آزار کے بیچ حال رہتا ہی نہیں عشق کے بیمار کے بیچ آرزومند ہے خورشید میسر ہے کہاں کہ تنک ٹھہرے ترے سایۂ دیوار کے بیچ کیا کہیں ہم کہ گلے ڈالے پھریں مستی میں دانے سبحہ کے پرو رشتۂ زنار کے بیچ رشک خوبی کا اسی کے جگرمہ میں ہے داغ یہ جو اک خال پڑا ہے ترے رخسار کے بیچ مل گیا پھولوں میں اس رنگ سے کرتے ہوئے سیر کہ تامل کیے پایا اسے گلزار کے بیچ قدر گو تم نہ کرو میری متاع دل کی جنس لگ جاوے گی یہ بھی کسو سرکار کے بیچ گرد سررفتہ ہیں اے میر ہم اس کشتے کے رہ گیا یار کی جو ایک ہی تلوار کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR