Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

عجب نہیں ہے نہ جانے جو میر چاہ کی ریت

عجب نہیں ہے نہ جانے جو میر چاہ کی ریت سنا نہیں ہے مگر یہ کہ جوگی کس کے میت مت ان نمازیوں کو خانہ ساز دیں جانو کہ ایک اینٹ کی خاطر یہ ڈھاتے ہیں گے مسیت غم زمانہ سے فارغ ہیں مایہ باختگاں قمارخانۂ آفاق میں ہے ہار ہی جیت ہزار شانہ و مسواک و غسل شیخ کرے ہمارے عندیے میں تو ہے وہ خبیث پلیت کسو کے بستر و سنجاب و قصر سے کیا کام ہماری گور کے بھی ڈھیر میں مکاں ہے مبیت ہوئے ہیں سوکھ کے عاشق طنبورے کے سے تار رقیب دیکھو تو گاتے ہیں بیٹھے اور ہی گیت شفق سے ہیں در و دیوار زرد شام و سحر ہوا ہے لکھنؤ اس رہگذر میں پیلی بھیت کہا تھا ہم نے بہت بولنا نہیں ہے خوب ہمارے یار کو سو اب ہمیں سے بات نہ چیت ملے تھے میر سے ہم کل کنار دریا پر فتیلہ مو وہ جگر سوختہ ہے جیسے اتیت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR