Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا کہے حال کہیں دل زدہ جاکر اپنا

کیا کہے حال کہیں دل زدہ جاکر اپنا دل نہ اپنا ہے محبت میں نہ دلبر اپنا دوری یار میں ہے حال دل ابتر اپنا ہم کو سو کوس سے آتا ہے نظر گھر اپنا یک گھڑی صاف نہیں ہم سے ہوا یار کبھی دل بھی جوں شیشۂ ساعت ہے مکدر اپنا ہر طرف آئینہ داری میں ہے اس کے رو کی شوق سے دیکھیے منھ ہووے ہے کیدھر اپنا لب پہ لب رکھ کے نہ اس گل کے کبھو ہم سوئے یہ بساط خسک و خار ہے بستر اپنا کس طرح حرف ہو ناصح کا موثر ہم میں سختیاں کھینچتے ہی دل ہوا پتھر اپنا کیسی رسوائی ہوئی عشق میں کیا نقل کریں شہر و قصبات میں مذکور ہے گھر گھر اپنا اس گل تر کی قبا کے کہیں کھولے تھے بند رنگوں گل برگ کے ناخن ہے معطر اپنا تجھ سے بے مہر کے لگ لگنے نہ دیتے ہرگز زور چلتا کچھ اگر چاہ میں دل پر اپنا پیش کچھ آئو یہیں ہم تو ہیں ہر صورت سے مثل آئینہ نہیں چھوڑتے ہم گھر اپنا دل بہت کھینچتی ہے یار کے کوچے کی زمیں لوہو اس خاک پہ گرنا ہے مقرر اپنا میر خط بھیجے پر اب رنگ اڑا جاتا ہے کہ کہاں بیٹھے کدھر جاوے کبوتر اپنا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR