Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مجھ زار نے کیا گرمی بازار سے پایا

مجھ زار نے کیا گرمی بازار سے پایا کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا بیتاب تہ تیغ ستم دیر رہا میں جب تک نہ گئی جان مجھے صبر نہ آیا جانا فلک دوں نے کہ سرسبز ہوا میں گر خاک سے سبزہ کوئی پژمردہ اگایا اس رخ نے بہت صورتیں لوگوں کی بگاڑیں اس قد نے قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا مت راہ سخن دے کہ پھر آپھی تو کہے گا کیوں میں نے محبت کے عبث منھ کو کھلایا ہر چند کہ تھی ریجھنے کی جاے ترے لب پر گالیاں دیں اتنی انھوں سے کہ رجھایا گردش میں رہا کرتے ہیں ہم دید میں ان کی آنکھوں نے تری خوب سماں ہم کو دکھایا کس روز یہ اندوہ جگر سوز تھا آگے کب شب لب و یارب تھی مری یوں ہی خدایا دن جی کے الجھنے کے ہی جھگڑے میں کٹے ہے رات اس کے خیالات سے رہتے ہیں قضایا کیا کہیے دماغ اس کا کہ گل گشت میں کل میر گل شاخوں سے جھک آئے تھے پر منھ نہ لگایا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR