Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا

رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا یک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا وہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگا خون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا لعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیات اب تو کوئی کوئی ان ہونٹوں پہ مر جانے لگا حیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کو یوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا حبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کے یہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا گرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہو چاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا عاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہے یعنی وہ محشر خرام اب پائوں پھیلانے لگا چشمک اس مہ کی سی دلکش دید میں آئی نہیں گو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا کیونکر اس آئینہ رو سے میر ملیے بے حجاب وہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR