Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا

سہل ایسا نہ تھا آخر جی سے مرا جانا تھا ٹک رنجہ قدم کر کر مجھ تک اسے آنا تھا کیا مو کی پریشانی کیا پردے میں پنہانی منھ یار کو ہر صورت عاشق سے چھپانا تھا لذت سے نہ تھا خالی جانا تہ تیغ اس کی اے صید حرم تجھ کو اک زخم تو کھانا تھا کیا صورتیں بگڑی ہیں مشتاقوں کی ہجراں میں اس چہرے کو اے خالق ایسا نہ بنانا تھا مت سہل ہمیں سمجھو پہنچے تھے بہم تب ہم برسوں تئیں گردوں نے جب خاک کو چھانا تھا کیا ظلم کیا بے جا مارا جیوں سے ان نے کچھ ٹھور بھی تھی اس کی کچھ اس کا ٹھکانا تھا اے شور قیامت اب وعدے سے قیامت ہے خوابیدہ مرے خوں کو ظالم نہ جگانا تھا ہو باغ و بہار آیا گل پھول کہیں پایا جلوہ اسے یاں اپنا صدرنگ دکھانا تھا کہتے نہ تھے ہم واں سے پھر آچکے جیتے تم میر اس گلی میں تم کو زنہار نہ جانا تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR