Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جس خشم سے وہ شوخ چلا آج شب آیا

جس خشم سے وہ شوخ چلا آج شب آیا آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا اس نرگس مستانہ کو کر یاد کڑھوں ہوں کیا گریۂ سرشار مجھے بے سبب آیا راہ اس سے ہوئی خلق کو کس طور سے یارب ہم کو کبھی ملنے کا تو اس کے نہ ڈھب آیا کیا پوچھتے ہو دب کے سخن منھ سے نہ نکلا کچھ دیکھتے اس کو مجھے ایسا ادب آیا کہتے تو ہیں میلان طبیعت ہے اسے بھی یہ باتیں ہیں ایدھر کو مزاج اس کا کب آیا خوں ہوتی رہی دل ہی میں آزردگی میری کس روز گلہ اس کا مرے تابہ لب آیا جی آنکھوں میں آیا ہے جگر منھ تئیں میرے کیا فائدہ یاں چل کر اگر یار اب آیا آتے ہوئے اس کے تو ہوئی بے خودی طاری وہ یاں سے گیا اٹھ کے مجھے ہوش جب آیا جاتا تھا چلا راہ عجب چال سے کل میر دیکھا اسے جس شخص نے اس کو عجب آیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR