Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

چال یہ کیا تھی کہ ایدھر کو گذارا نہ کیا

چال یہ کیا تھی کہ ایدھر کو گذارا نہ کیا دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا اس کو منظور نہ تھی ہم سے مروت کرنی ایک چشمک بھی نہ کی ایک اشارہ نہ کیا بعد دشنام تھی بوسے کی توقع بھی ولے تلخ سننے کے تئیں ہم نے گوارا نہ کیا مرکے بے حوصلہ لوگوں میں کہا یافرہاد چندے پتھر ہی سے سر اور بھی مارا نہ کیا جی رہے ڈوبتے دریاے غم عشق میں لیک بوالہوس کی سی طرح ہم نے کنارہ نہ کیا نیم جاں صدقے کی اس پر نہ زیاں دیکھا نہ سود ہم تو کچھ دوستی میں وارے کا سارا نہ کیا لے گیا مٹی بھی دروازے کی ان کے میں میر پر اطبا نے مرے درد کا چارہ نہ کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR