Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا

دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا جاننا باطل کسو کو یہ قصور فہم ہے حق اگر سمجھے تو سب کچھ حق ہے یاں باطل ہے کیا یاں کوئی دن رات وقفہ کرکے قصد آگے کا کر کارواں گاہ جہان رفتنی منزل ہے کیا تک رہے ہیں اس کو سو ہم تک رہے ہیں ایک سے دیدئہ حیراں ہمارا دیدئہ بسمل ہے کیا وہ حقیقت ایک ہی ساری نہیں ہے سب میں تو آب سا ہر رنگ میں یہ اور کچھ شامل ہے کیا چوٹ میرے دل میں ایسی ہے کہ ہوں میں دم بخود وہ کشندہ یوں ہی کہتا ہے کہ تو گھائل ہے کیا کہتے ہیں ظاہر ہے اک ہی لیلی ہفت اقلیم میں اس عبارت کا نہیں معلوم کچھ محمل ہے کیا ہم تو سو سو بار مر رہتے ہیں ایک ایک آن میں عشق میں اس کے گذرنا جان سے مشکل ہے کیا شاخ پر گل یا نہال اودھر جھکے جاتے ہیں سب قامت دلکش کا اس کی سرو ہی مائل ہے کیا مرثیہ میرے بھی دل کا رقت آور ہے بلا محتشمؔ کو میر میں کیا جانوں اور مقبلؔ ہے کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR